Skip to main content

Darussalam Education System

EN / UR
m

از قلم: صداقت اکرام

عموماً ہم روپے پیسوں کا صدقہ دیتے ہیں، مالی تعاون ہی کو مدد سمجھتے ہیں، کسی سوالی کو چند روپے تھما کر سمجھتے ہیں کہ میں نے صدقہ نکال دیا۔۔
یقیناً مالی صدقہ عظیم صدقہ ہے مگر ہم جس دور میں جی رہے ہیں، یہاں صرف مالی غربت ہی نہیں ہے، اخلاقی غربت بھی ہے۔۔ صحیح مشوروں کا قحط بھی ہے۔۔۔ غمخواری و خیر خواہی کا فقدان بھی ہے۔۔۔ مفید تعلیم کا بحران بھی ہے۔۔۔ غموں اور پریشانیوں کا طوفان بھی ہے۔۔۔
اس لیے ایک عادت بنائیں۔
جہاں آپ مال کا صدقہ کرتے ہیں، وہیں اپنی صلاحیتوں کا، اپنی خوشیوں کا، اپنے علم کا بھی صدقہ کیا کریں۔

‏کسی کی مسکراہٹ کی وجہ بن جائیں۔ کسی کیلئے روزگار کا سبب پیدا کریں۔ کسی کو مخلصانہ مشورہ دیں۔
کسی کا مفت کام کر دیں۔
کسی کی جائز سفارش کر دیں۔
کسی کی کوئی مشکل آسان کر دیں۔
کسی کا دُکھ بانٹ لیں۔
کسی کی خوشی کی وجہ بن جائیں۔

یقین جانیں، یہ ایسے عظیم صدقات ہیں جو نہ صرف لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت پیدا کریں گے، نہ صرف آپ لوگوں کی آنکھوں کا تارا، ان کا منظورِ نظر، ہر دلعزیز شخصیت بنیں گے، بلکہ آپ کا دل خوشیوں کی بارات کی آماجگاہ بھی بن جائے گا۔ بے چینی آپ سے کوسوں دور ہو جائے۔۔ اور آپ کا شمار ان لوگوں میں ہونے لگے گا جو شریعت کی نظر میں بہترین، اللہ کو پیارے، محبوبِ الہی اور صفتِ خیر سے متصف لوگ ہیں کیونکہ پیغمبر اسلام کا فرمانِ ذی شان ہے:
*أحب النَّاسِ إلى اللّٰه أنفععم للنَّاسِ*
*“اللہ کو سب سے زیادہ محبوب انسان وہ ہے جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”*(السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث:906)