Skip to main content

Darussalam Education System

EN / UR
m

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کے 6 بنیادی نظام

کسی بھی تعلیمی و تربیتی ادارے کی مثالی کارکردگی کا راز اس کے ایسے مستحکم و مربوط نظام میں پوشیدہ ہوتا ہے جو طالب علم کے ادارے میں قدم رکھنے سے لے کر اس کے معاشرے کا فعال رکن بننے تک اس کے ہر لمحے پر محیط ہو اور ہر موڑ پر اس کی راہنمائی کرے۔

6 بنیادی نظام
داخلہ تعلیم امتحانات اوقات تربیت تعطیلات

منظم تعلیم، متوازن تربیت

تعلیم و تربیت کا عمل ایک حساس سفر ہوتا ہے جسے نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھالے بغیر عظیم منزل کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا شاندار تعلیمی و تربیتی ڈھانچہ 6 بنیادی نظاموں سے تشکیل دیا گیا ہے جو ایک طالب علم کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کو نظم و ضبط، اخلاق و کردار اور بصیرت و فراست سے آراستہ کرتے ہیں۔

ان 6 نظاموں کی مضبوطی کے بغیر کسی بھی تعلیمی ادارے کا ترقی کی منازل طے کرنا ممکن نہیں ہے۔

چھ مربوط تعلیمی و تربیتی شعبے

کسی بھی نظام پر کلک کریں اور اس کی مکمل تفصیل ملاحظہ کریں۔

واضح رہے کہ نظامِ داخلہ کسی بھی تعلیمی نظام کی ترقی و ارتقاء میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ دروازہ ہے جس سے طلبہ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

اگر داخلے کا نظام منظم، شفاف اور اصولوں پر قائم ہو تو پورا نظام مضبوط و مستحکم رہتا ہے اور ادارہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے۔

اللہ کے فضل و کرم سے الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ داخلہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے جس میں سفارش کی بجائے میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد محنتی، ذہین، سنجیدہ اور حصولِ علم کا جذبہ رکھنے والے طلبہ ہی کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

کسی بھی تعلیمی ادارے کا نظامِ تعلیم اس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ادارے کی مضبوطی اور کمزوری کا انحصار اسی نظام پر ہوتا ہے۔

اس نظام میں تعلیمی مقاصد و اہداف، نصاب کی پلاننگ، تدریسی طریقہ کار، نتائج کی منصوبہ بندی، فنی کورسز کا اہتمام، جامع لائبریری کا قیام، مطالعہ کا جامع لائحہ عمل، تعلیم کی خصوصیات، امتیازات کی درجہ بندی اور طلبہ کی جملہ سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔

نظامِ تعلیم کے دو بنیادی حصے
01

تاسیسی تعلیم

Foundation جو تین سالوں پر مشتمل ہے۔ اس میں بنیادی علوم و فنون میں پختگی پیدا کی جاتی ہے۔

02

تطبیقی اور فنی تعلیم

Advanced Study جو پانچ سالوں پر مشتمل ہے۔ اس میں علوم و فنون کو تطبیقی اور ارتقائی مراحل سے گزار کر تخصص (Specialization) کے لیے مطلوب درجے تک پہنچایا جاتا ہے۔

نظامِ تعلیم کے تحت قائم تین شعبے
شعبہ علوم اسلامیہ شعبہ علومِ عصریہ شعبہ تجوید و قراءت

نظامِ امتحانات ہی نظامِ تعلیم کی مضبوطی کا ضامن ہے۔ جتنا نظامِ امتحان مضبوط و مربوط ہو گا، اسی قدر نظامِ تعلیم شاندار نتائج کا حامل ہو گا۔

نظامِ تعلیم میں اس کا کلیدی اور بنیادی کردار ہوتا ہے۔ علمی مضبوطی کا معیار اس ادارے کا نظامِ امتحان ہی متعین کرتا ہے۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ نظامِ تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے اور اس حوالے سے مختلف ورکشاپس اور میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ماہرِ تعلیم، شیوخ الحدیث اور سینئر اساتذہ سے مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے اور ان کی قیمتی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے نظامِ امتحان میں مناسب تبدیلی کر دی جاتی ہے۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ میں بنیادی طور پر دو تعلیمی نظام موجود ہیں: علوم اسلامیہ اور علوم عصریہ۔ اسی لحاظ سے دو نظامِ امتحانات مقرر و متعین ہیں۔

کم وقت میں کثیر مقاصد کا حصول حقیقی ٹائم مینجمنٹ ہے۔ سنجیدہ اور بامقصد اداروں میں نظامِ اوقات نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

تعلیمی ادارے کے اعلیٰ نتائج یا کمزور نتائج کا دارومدار اسی نظام پر ہے، گویا یہ باقی تمام نظاموں کے لیے ’’میزان‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔

طلبہ کا یومیہ شیڈول
فجر سے نصف گھنٹہ قبل بیداری نمازِ فجر اور تلاوت ورزش اور صفائی سکول کی کلاسز یونیفارم، ناشتہ اور اسمبلی علومِ اسلامیہ کی کلاسز عصر کے بعد عربی گرامر کھیل اور جسمانی سرگرمیاں نمازِ مغرب و عشاء رات 10:30 تک مطالعہ

علم کا مقصد اس پر عمل کرنا ہے اور اس عملی صورت کو ’’تربیت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حقیقی علم کے حامل مضبوط عمل والے لوگ ہی مدارس کا گوہرِ نایاب ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے الرحمہ انسٹیٹیوٹ ہر لحظہ مستعد اور کوشاں ہے جہاں تربیتی اسلوب میں بہتری لانے اور طلبہ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے کئی صلاحیتیں اور مہارتیں پیدا کی جاتی ہیں۔

01

ایمانی و روحانی تربیت

عقیدہ، عبادت، اخلاص، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کی جامع تربیت۔

02

فنی تربیت

عملی زندگی، تدریس، تحقیق، دعوت اور انتظامی میدان کے لیے ضروری مہارتوں کی تربیت۔

یہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا اہم رکن ہوتا ہے۔ اس میں جس قدر پابندی ہو گی، اسی قدر سسٹم میں مضبوطی آئے گی۔

الرحمہ کا نظامِ تعطیلات ماہرینِ تعلیم کی ماہرانہ صلاحیتوں کا نچوڑ ہے۔

ہفتہ وار تعطیل

صرف جمعے کے دن بعد از فجر تا مغرب تعلیمی سلسلہ موقوف ہوتا ہے۔

ماہانہ تعطیلات

ہر ماہ جمعرات ظہر سے اتوار مغرب تک تین ماہانہ تعطیلات ہوتی ہیں۔

عیدین کی تعطیلات

عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر سات آٹھ تعطیلات ہوتی ہیں۔

رمضان المبارک

رمضان المبارک میں تعلیم میں معاون اہم علمی دورہ جات کرائے جاتے ہیں۔

آٹھ سالہ تعلیمی دورانیے میں ہر طالب علم کے لیے مختلف تین سالوں میں چھ موضوعات پر مشتمل تین ’’علمی دورہ جات‘‘ میں شرکت کرنا لازمی ہے۔

علم، نظم، تربیت اور کردار

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کے یہ چھ بنیادی نظام ایک طالب علم کی مکمل علمی، اخلاقی، روحانی اور عملی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔