کاوش: صداقت اکرام
ربیع الاول کا مہینہ جاری ہے۔ اس مہینے میں حب نبوی کا اظہار لوگ اپنے اپنے انداز میں، اپنے اپنے رنگ میں کرتے ہیں۔ سیرت کے واقعات بتا کر دل میں محبت نبوی کی جوت جگائی جاتی ہے۔ کہیں آپ کی رحمت و شفقت کے تذکرے، کہیں آپ کی جہادی زندگی کے بیانات، کہیں آپ کی آمد کی برکتوں کی باتیں۔۔ لیکن جو بات بہت کم بیان کی جاتی ہے، وہ آپ کی شخصیت سازی، کردار سازی، افراد سازی کا منفرد، دلکش، انوکھا اسلوب انداز ہے جسے پڑھ کر بندہ آپ کی حکمت ودانائی پر انگشت بدندان رہ جاتا ہے۔۔
آئیے آپ کو اس حوالے سے سیرت نبوی کے چند واقعات سے آگاہ کرتا ہوں جو در اصل ایک عربی مضمون سے لیے گئے ہیں۔
آپ کی ایک قائدانہ خوبی یہ تھی کہ آپ ہمتیں بلند کرتے، عزائم کو بڑھاتے اور شوق کو جگاتے تھے۔
1. آپ ﷺ نے ایک غزوے میں فرمایا:
“کل میں عَلَم (پرچم) ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔”
یہ سن کر ساری فوج رات بھر یہ آرزو کرتی رہی کہ کاش وہ شخص میں ہوں۔ حالانکہ اگر آپ ﷺ صرف یہ فرما دیتے: “کل فلاں کے ہاتھ میں عَلَم ہوگا”، تو نہ ہمتیں بلند ہوتیں، نہ ہی لوگ اس ذمہ داری کے حسن کو محسوس کرتے، اور نہ ہی ہر شخص یہ چاہتا کہ وہی اس اعزاز کا مستحق بنے۔
2. ایک اور موقع پر جب جعفرؓ حبشہ سے واپس آئے اور لوگ خیبر کی فتح کی خوشخبری میں مصروف تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے نہیں معلوم کہ کس بات پر زیادہ خوش ہوں: جعفر کی واپسی پر یا خیبر کی فتح پر!”
کیا جعفرؓ کی واپسی، خیبر کی عظیم فتح کے برابر ہے؟ اصل میں یہ ہیرو سازی ہے، یہ وہ حسین الفاظ ہیں جو ہمتیں بلند کرتے ہیں، جو جذبوں کو جواں کرتے ہیں، جو اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعد میں جعفرؓ نے ایک اور معرکہ لڑا اور “شہیدِ طیار” کے لقب سے تاریخ میں زندہ ہو گئے۔
3. خندق کے دن آپ ﷺ نے فرمایا:
“کون ہے جو دشمن کی خبر کے کر آئے گا؟ اس کے لیے جنت ہے۔”
اگر آپ ﷺ صرف یہ فرماتے: “کون ہے جو دشمن کی خبر لائے گا؟”
تو سب پر لازم ہوتا کہ اطاعت کریں لیکن یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے دلوں میں عزم اور ہمت بھر دی۔ اس عمل کی ادائیگی کا شوق دلایا۔
4. ہجرت کے بعد جب صہیبؓ رومی اپنے مالی نقصان کے باوجود آپ ﷺ کی آغوش میں آ کر گرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“صہیب! یہ تو بہترین سود ہوا، بہترین سود!”
یہ الفاظ نبوی سننے کے بعد صہیبؓ پھر ساری زندگی اسی جذبے کے ساتھ جیتے رہے کہ وہ اللہ کی راہ میں ایک کامیاب سود کر آئے ہیں۔ نہ انھیں مالی نقصان کا کوئی ملال رہا نہ کوئی غم۔
5. معاذؓ کو آپ ﷺ نے نصیحت کرنے سے پہلے فرمایا:
“اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”
پھر جو بات آپ ﷺ نے کہی، اس کی تاثیر اور مٹھاس کچھ اور ہی تھی، اور وہ سیدھی دل میں اتر گئی۔
لوگو! اپنے رسول ﷺ سے سیکھو…
کیسے ہیرو تراشے جاتے ہیں۔۔؟
کیسے ہمتیں بلند کی جاتی ہیں..؟
کیسے بات کی جاتی ہے…؟
اصل بات یہ نہیں کہ صرف حکم دیا جائے، اصل بات یہ ہے کہ دوسروں کے دل میں ایسا شوق جگایا جائے کہ وہ خود اس پر عمل کے لیے بیتاب ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ:
ایک اچھی بات زخم بھر دیتی ہے۔
ایک بات انسان کو ہیرو بنا دیتی ہے۔
ایک بات ہمت بلند کر دیتی ہے۔
ایک بات امید جگا دیتی ہے۔
ایک بات غم مٹا دیتی ہے۔
ہم اپنے رسول ﷺ سے حسین اندازِ گفتگو بھی سیکھنا چاہیے کیونکہ آپ معلم انسانیت تھے، حکمت و دانائی کے امام تھے، قائد اعظم تھے، شخصیت ساز تھے۔۔