از قلم: صداقت اکرام
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں قرآن کی نعمت عطا فرمائی، سنتِ رسول ﷺ کا فیض بخشا، اور ہمیں امتِ محمدیہ ﷺ کا فرد بنایا۔ قرآن و سنت انسانیت کے لیے وہ مینارۂ نور ہیں جو اندھیروں میں روشنی دکھاتے ہیں، وہ چشمۂ ہدایت ہیں جو ہر پیاسے کو سیراب کرتے ہیں اور وہ چراغِ راہ ہیں جو قیامت تک کے لیے راہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔
اس بات کو جان لیجیے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر دین ہے۔ یہ ہر زمانے کے لیے اور ہر جگہ کے لوگوں کے لیے دستورِ عمل اور قانونِ حیات ہے۔ قرآن و سنت میں ہر دور کے لوگوں کے لیے راہنمائی موجود ہے۔ دین اسلام کی اس عالمگیریت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾ (سبا: 28)
”اے نبی ﷺ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔“
سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دیا:
﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا﴾ (الاعراف: 158)
”اے نبی ﷺ فرما دیجیے: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔“
یعنی میری تعلیمات، میرے فرامین، میری ہدایات کسی ایک زمانے یا کسی ایک قوم یا کسی ایک علاقے کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے ہیں۔ ہر زمانے اور ہر جگہ کے لوگ ان سے راہنمائی حاصل کر کے اپنی دنیا بھی سنوار سکتے ہیں اور اپنی آخرت بھی اچھی بنا سکتے ہیں۔
اس بات کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اپنی حدیث میں بڑے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً﴾ (بخاری، حديث:335)
”پہلے انبیاء اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے، اور مجھے تمام انسانوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔“
معزز قارئین! آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ مغربی تہذیب، سیکولرازم، لبرل ازم اور دہریت کے نظریات ہر طرف پھیل رہے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے نئی نسل کے ذہنوں کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں قرآن و سنت کی صحیح اشاعت اور ان پر عمل سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔ آج کے دور میں آئے روز نئے نئے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے اگر کہیں سے راہنمائی مل سکتی ہے تو وہ قرآن و سنت سے مل سکتی ہے کیونکہ قرآن ایسی کتاب ہے جو سب سے بہترین، سب سے اچھی، سب سے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾ (الإسراء: 9)
”یقیناً یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا:
((تركتُ فيكم أمرينِ؛ لن تَضلُّوا ما إن تمسَّكتُم بهما: كتابَ اللَّهِ وسُنَّتي))
”میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔“(منزلة السنة، حديث:13، حسنه الالباني)
ان دلائل سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ عصر حاضر کے تمام مسائل کا صحیح حل اگر کہیں سے مل سکتا ہے تو وہ قرآن و سنت سے مل سکتا ہے۔
لیکن قارئین کرام! سوال یہ ہے کہ دور حاضر میں قرآن و سنت کی اشاعت کیسے کی جائے؟ کن ذرائع اور وسائل کو کام میں لا کر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کر سکتے ہیں؟
آئیے اس حوالے سے چند گزارشات آپ کے سامنے رکھتا ہوں:
1. میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اشاعت
پچھلے زمانوں میں لوگ اونٹ اور گھوڑوں پر سفر کر کے علم کی جستجو میں نکلتے تھے، دعوت و تبلیغ پھیلاتے تھے، لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے آگاہ کرتے تھے۔ اس میں ان کو سفر کی مشقتیں بھی جھیلنی پڑتی تھیں۔ مجمع کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی محنت کرنی پڑتی تھی اور سفری اخراجات بھی چاہیے ہوتے تھے۔ اگر ہم سیرت نبوی کا مطالعہ کریں تو آپ دین کی دعوت دینے کے لیے طائف تشریف لے گئے۔۔ لمبا سفر کر کے گئے۔۔ طائف کا واقعہ۔۔
آج تو علم پھیلانا بہت آسان ہو چکا ہے۔ نہ زیادہ سفر کی ضرورت، نہ مجمع کو اکٹھا کرنے کے لیے اتنی تگ و دو۔ یہ علم ایک لمحے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھر میں پہنچ سکتا ہے۔
آج یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور پوڈکاسٹ کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیمات دنیا کے کونے کونے تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے قرآن کا ترجمہ، حدیث کی کتب اور اسلامی دروس عام کیے جا سکتے ہیں۔
سب لوگ خصوصا نوجوان طبقہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ فعال ہے۔ اور یہ سوشل میڈیا بہت سے نوجوانوں کی پستی و گمراہی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اسکے ذریعے مسلمانوں میں فحاشی و عریانی کو عام کیا جارہا ہے اس لیے یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ انہیں درست اسلامی تعلیمات اور اقدار سے روشناس کرایا جائے۔ سوشل میڈیا پر دین کا کام کرتے ہوئے ہم نوجوانوں کو دین کے قریب لا سکتے ہیں، ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کر سکتے ہیں۔
2. تحقیق اور علمی کاموں کے ذریعے اشاعت
یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اسلام محض چند عبادات اور رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ قرآن و سنت صرف چودہ سو سال پہلے کے مسائل کے حل کے لیے نہیں نازل ہوئے تھے، بلکہ یہ قیامت تک آنے والے ہر نئے چیلنج اور ہر نئی صورتحال کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
آج کے دور میں دنیا نے معیشت کے میدان میں بے شمار نئے نظام وضع کیے ہیں، سود پر مبنی بینکاری سے لے کر سرمایہ داری اور اشتراکیت کے تجربات تک۔ مگر ان سب میں انصاف اور سکون نہیں ملا۔ صرف قرآن و سنت ہی ہمیں ایک ایسا معاشی نظام عطا کرتے ہیں جو عدل، برابری اور فلاحِ عامہ پر قائم ہے۔
اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی نے انسان کو حیرت انگیز ترقی دی ہے، خلا کی وسعتوں کو فتح کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ انسان کو اخلاقی زوال اور روحانی خلا کا بھی شکار کیا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم اور ٹیکنالوجی کو اللہ کی مخلوق کی خدمت اور انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ تباہی اور بربادی کے لیے۔
اور سماجی نظریات — کبھی لبرل ازم کے نام پر، کبھی سوشلسٹ فکر کے نام پر — خاندان، معاشرت اور تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ مگر قرآن و سنت ہمیں ایک متوازن معاشرہ عطا کرتے ہیں، جہاں والدین کا احترام ہے، اولاد کی تربیت ہے، عورت کا مقام ہے، مرد کی ذمہ داری ہے، اور اجتماعی عدل قائم ہے۔
ہمارا فریضہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کو ان جدید مسائل کی روشنی میں سمجھیں اور لوگوں کے سامنے ان مسائل کا حل پیش کریں، تاکہ دنیا دیکھے کہ اسلام آج بھی ایک زندہ، مکمل اور عالمی دین ہے جو ہر زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ بھی قرآن و سنت کی اشاعت کا ایک بہترین ذریعہ اور راستہ ہے۔
3. تعلیمی اداروں میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعے نشر واشاعت
قوموں کی تعمیر و بقا کا سب سے بڑا ذریعہ اُن کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہی وہ نرسریاں ہیں جہاں نئی نسل کے ذہن پروان چڑھتے ہیں اور ان کے دل و دماغ میں زندگی کے اصول بٹھائے جاتے ہیں۔
آج ہمارے نصاب میں قرآن و سنت کا ذکر تو ہے، مگر صرف ایک “مضمون” کے طور پر۔ نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ قرآن کو محض ایک سبق اور سنت کو محض ایک تاریخی روایت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ قرآن و سنت کو صرف نصاب کا حصہ نہ بنایا جائے بلکہ عملی زندگی کی تربیت کا ذریعہ بنایا جائے۔
قرآن کو اس طرح پڑھایا جائے کہ طلبہ کو یقین ہو جائے کہ یہ کتاب ان کی معیشت، سیاست، معاشرت اور اخلاق، سب کی رہنمائی کرتی ہے۔
سنتِ نبوی ﷺ کو اس انداز میں پڑھایا جائے کہ طلبہ سمجھیں کہ یہ صرف چودہ سو سال پرانی روایات نہیں بلکہ آج کے سائنسی، معاشی اور سماجی مسائل کا بہترین حل ہیں۔
اساتذہ اور پروفیسر حضرات کو بھی یہ سوچ اپنانی ہوگی کہ وہ صرف “معلومات” نہیں دے رہے، بلکہ ایک کردار اور ایک امت بنا رہے ہیں۔
اس بات کو نوٹ کر لیجیے کہ اگر ہمارے اسکول اور یونیورسٹیاں قرآن و سنت کی عملی تربیت گاہیں بن گئیں تو یہی نسل آگے چل کر معاشرے کی تقدیر بدل دے گی۔
4. بین الاقوامی سطح پر اشاعت
قرآن و سنت کی اشاعت صرف مسلمانوں کے معاشرے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر عام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
قرآن کا پیغام دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ہو تاکہ ہر انسان اپنے دل کی زبان میں اللہ کی ہدایت کو سمجھے۔
سنتِ نبوی ﷺ کو مختلف زبانوں اور جدید اسلوب میں پیش کیا جائے تاکہ دنیا دیکھے کہ نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات آج بھی امن، محبت اور انسانی وقار کی ضامن ہیں۔
غیر مسلم دنیا تک اسلام کا اصل اور پرامن چہرہ پہنچایا جائے، تاکہ وہ جان سکیں کہ اسلام دہشت گردی یا شدت پسندی کا نہیں، بلکہ عدل، رواداری اور رحمت کا دین ہے۔
میڈیا، عالمی کانفرنسیں، آن لائن پلیٹ فارمز، اور بین الاقوامی ادارے — یہ سب ہمارے لیے مواقع ہیں کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی کو مشرق سے مغرب تک پھیلائیں۔
معزز قارئین کرام! جب قرآن و سنت کا پیغام مختلف زبانوں میں دنیا کے سامنے آئے گا تو وہ تعصبات اور غلط فہمیاں ختم ہوں گی جو اسلام دشمن پروپیگنڈے کے ذریعے پھیلائی جاتی ہیں، اور اسلام ایک زندہ، روشن اور عالمی دین کی حیثیت سے نمایاں ہوگا۔
5. اخلاق و کردار کے ذریعے نشر و اشاعت
قرآن و سنت کی اشاعت کا مطلب صرف زبان سے بیان کرنا یا کتابوں میں لکھ دینا نہیں ہے۔ اصل اشاعت یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو قرآن و سنت کا چلتا پھرتا نمونہ بنا لے۔
جب ایک مسلمان سچ بولے گا تو لوگ کہیں گے کہ یہ قرآن کا اثر ہے۔
جب ایک مسلمان دیانتداری دکھائے گا تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ سنتِ نبوی ﷺ کی تعلیم ہے۔
جب وہ عدل قائم کرے گا اور ہر ایک کو اس کا حق دے گا تو لوگ جانیں گے کہ یہی قرآن و سنت کا پیغام ہے۔
جب اس کے رویے میں محبت، خیر خواہی اور ایثار جھلکے گا تو یہی اسلام کی سب سے بڑی تبلیغ ہوگی۔
قرآن کریم نے بارہا اس بات کو واضح کیا ہے کہ مؤمن کی پہچان اس کے اقوال سے زیادہ اس کے اعمال سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾(سورۃ فصلت: 33)
“اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں؟”
دیکھیے! یہاں دعوت کے ساتھ عمل صالح کو لازم قرار دیا گیا، یعنی زبان سے بات کہنے کے ساتھ کردار کا حسن ضروری ہے۔
ہمارے نبی کریم ﷺ کی سیرت گواہ ہے کہ آپ نے اپنے اخلاق کے ذریعے تبلیغ کی اور لوگوں کو دینِ اسلام اپنانے پر اپنے حسن اخلاق سے مجبور کیا۔
نبی کریم ﷺ کی امانت داری
مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو “الصادق الامین” کہتے تھے۔ جب ہجرت کے وقت آپ ﷺ مدینہ تشریف لے جا رہے تھے تو دشمنوں کی امانتیں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے واپس کروائیں۔ یہ کردار ہی تھا جس نے ہزاروں لوگوں کے دل جیت لیے۔
طائف کا واقعہ
جب طائف کے لوگوں نے پتھر مارے اور ایذا دی، آپ ﷺ کے پاس اختیار تھا کہ ان پر عذاب نازل ہو۔ مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
“بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔”
یہ درگزر اسلام کی سب سے بڑی تبلیغ تھی۔
فتح مکہ
جب قریش نے برسوں ظلم کیے اور آپ ﷺ فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے تو سب کانپ رہے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا:
“اذهبوا فأنتم الطلقاء”
“جاؤ! آج تم سب آزاد ہو۔”
اس عفو و درگزر نے پورے قریش کے دل اسلام کی طرف پھیر دیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ قرآن و سنت دنیا میں پھیلیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے گھروں، اپنے بازاروں، اپنے دفاتر، اور اپنے تعلقات میں قرآن و سنت کی جھلک دکھانی ہوگی۔ کیونکہ کردار کی تاثیر ہزار خطبوں اور ہزار کتابوں سے بڑھ کر دلوں کو بدل دیتی ہے۔