Skip to main content

Darussalam Education System

EN / UR
m

(از قلم: حافظ ابو نعمان، ریسرچ سکالر دار السلام ریسرچ سینٹر، لاہور)

تمہید: شخصیت کا مفہوم اور اسلامی تصور

انسانی شخصیت ایک ایسا پیچیدہ اور ہمہ گیر موضوع ہے جس پر صدیوں سے ماہرینِ نفسیات، عمرانیات اور فلاسفہ بحث کرتے آئے ہیں۔ عام اصطلاح میں شخصیت سے مراد کسی فرد کی ظاہری ہیئت، گفتگو کا انداز اور اس کے رویے لیے جاتے ہیں لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے شخصیت محض ایک سماجی رویے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے باطن (روح)، عقل (فکر) اور ظاہر (عمل) کے اس حسین امتزاج کا نام ہے جو رضائے الٰہی کے تابع ہو۔
تاریخِ عالم پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف تہذیبوں نے شخصیت سازی کے مختلف معیار مقرر کیے۔ یونانیوں کے ہاں فلسفیانہ بحث و مباحثہ شخصیت کا کمال تھا، رومیوں کے ہاں جنگی مہارت اور جدید مغرب کے ہاں مادی کامیابی اور خود اعتمادی کو شخصیت کا محور مانا گیا لیکن ان تمام نظریات میں ایک خلا موجود رہا—اور وہ خلا ہے “روحانی بالیدگی اور اخلاقی توازن” کا۔ تعمیرِ شخصیت کا وہ کامل نمونہ جو محسنِ انسانیت، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے پیش کیا ، وہ اپنی جامعیت میں بے مثال ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت بتاتی ہے کہ ایک انسان بیک وقت ایک بہترین باپ، ایک دیانت دار تاجر، ایک رحیم سپہ سالار، ایک عادل حکمران اور ایک عابدِ شب زندہ دار کیسے بن سکتا ہے۔ آپ ﷺ کی شخصیت ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر دور کا انسان اپنی کوتاہیوں کو دیکھ کر ان کی اصلاح کر سکتا ہے۔

بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد: تکمیلِ اخلاق اور تزکیۂ نفس:

نبی کریم ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری محض ایک نئے مذہب کی تبلیغ نہ تھی بلکہ انسانیت کی مردہ رگوں میں اخلاق کی نئی روح پھونکنا تھی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَسُولًۭا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ﴾
“وہی ہے جس نے امیوں میں ایک رسول خود انھی میں سے بھیجا جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے” (الجمعۃ62 : 2)

اس آیت میں “تزکیہ” کا لفظ شخصیت سازی کی بنیاد ہے۔ تزکیہ کا مطلب ہے “پاک کرنا اور پروان چڑھانا”۔ یعنی شخصیت سے برے اوصاف (تکبر، حسد، جھوٹ) کو نکالنا اور اچھے اوصاف (عاجزی، محبت، سچائی) کی آبیاری کرنا۔
نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:
((إنَّما بُعِثتُ لأُتَمِّمَ مَكارِمَ الأخلاقِ))
”مجھے تو صرف اس (‏‏‏‏مقصد) کے لیے مبعوث کیا گیا کہ اخلاقی اقدار کی تکمیل کر سکوں۔“ (سلسلة الاحاديث الصحيحة ،حدیث: 2399)

یہاں “اتمم” (تکمیل کرنا) کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اخلاقیات کے جو بیج سابقہ انبیاء نے بوئے تھے، آپ ﷺ نے ان کو ایک تناور اور پھل دار درخت بنا دیا۔ تعمیرِ شخصیت میں سیرتِ طیبہ کا کردار یہ ہے کہ وہ انسان کو “خود غرضی” کے خول سے نکال کر “خدا پرستی” اور “خلقِ خدا کی خدمت” کے وسیع میدان میں لے آتی ہے۔ جب ایک فرد کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو اس کی سوچ پاکیزہ ہو جاتی ہے اور پاکیزہ سوچ ہی ایک مستحکم شخصیت کو جنم دیتی ہے۔

سیرتِ طیبہ کے بنیادی ستون: صداقت، امانت اور حیا

کسی بھی شخصیت کی مضبوطی کا اندازہ اس کے بنیادی اصولوں سے لگایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے شخصیت سازی کے لیے جو پہلا ستون فراہم کیا، وہ صداقت ہے۔ مکہ کے تپتے ہوئے صحرا میں جب آپ ﷺ نے حق کی پکار بلند کی تو بدترین دشمنوں نے آپ کی تعلیمات کا انکار تو کیا مگر آپ کی سچائی کا انکار نہ کر سکے۔ ابو جہل جیسا دشمن بھی کہتا تھا کہ “اے محمد! ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس پیغام کا انکار کرتے ہیں جو تم لائے ہو”۔
ایک مثالی شخصیت کے لیے “صداقت “صرف زبان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انسان کا عمل اس کی گفتگو کی تصدیق کرے۔
دوسرا ستون “امانت” ہے۔ امانت داری کا مطلب صرف رقم کی حفاظت نہیں بلکہ وقت کی حفاظت، راز کی حفاظت اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانا بھی امانت ہے۔ ہجرت کی رات جب آپ ﷺ کی جان کو خطرہ تھا، اس وقت بھی آپ ﷺ کو مشرکین کی امانتوں کی واپسی کی فکر تھی۔ یہ عمل سکھاتا ہے کہ ایک مضبوط شخصیت کا حامل شخص مفادات کے ٹکراؤ کے وقت بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا۔
تیسرا اہم عنصر “حیا” ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“حیا ایمان کا حصہ ہے” (صحیح البخاری ، حدیث : 24)
جدید دور میں جہاں بے باکی کو خود اعتمادی سمجھ لیا گیا ہے، سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حیا انسان کی شخصیت کو ایک وقار اور تقدس عطا کرتی ہے۔ حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اس کے اندر ایک ایسا داخلی نگران پیدا کر دیتی ہے جو اسے تنہائی میں بھی گناہ سے بچاتا ہے۔

شخصیت کا ذہنی و فکری پہلو: علم کی اہمیت اور مثبت سوچ

شخصیت سازی میں ذہنی بالیدگی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام نے شخصیت کی تعمیر کا آغاز ہی لفظ “إقرأ” (پڑھ) سے کیا۔ آپ ﷺ نے علم کے حصول کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ ایک جاہل انسان کی شخصیت کبھی بھی وہ اثر نہیں پیدا کر سکتی جو ایک صاحبِ علم کی شخصیت کر سکتی ہے لیکن یہاں علم سے مراد صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں، بلکہ وہ “نافع علم” ہے جو انسان کے عمل میں ڈھل جائے۔
سیرتِ طیبہ سے ہمیں مثبت سوچ کا درس ملتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ امید کا دامن تھامے رکھا۔ ہجرتِ مدینہ کے دوران غارِ ثور میں جب دشمن سر پر پہنچ گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ پریشان ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
﴿لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ﴾
”غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“(التوبة:40)
یہ جملہ نفسیاتی اعتبار سے ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ ایک ٹوٹتی ہوئی شخصیت کو سہارا دینے کے لیے “خدا کی معیت” کا احساس کافی ہے۔ مثبت سوچ انسان کے اندر سے مایوسی اور خوف کو ختم کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسی شخصیت ابھرتی ہے جو نامساعد حالات میں بھی راستہ نکالنا جانتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
((عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ))
“مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور خوشی ملے تو شکر، اور دونوں ہی اس کے لیے بہتر ہیں”۔ (صحیح مسلم ، حدیث : 2999)
یہ ذہنی توازن ہی شخصیت کا اصل کمال ہے جو اسے نہ جذباتی بناتا ہے اور نہ تھڑ دلا اور کم ہمت۔
اسی لیے دورِ حاضر میں اپنی شخصیت کو سنوارنے، نکھارنے اور ہر دلعزیز بنانے کے لیے ان نبوی اصول و ضوابط کو اپنانا اور اپنی شخصیت کا حصہ بنانا بہت ضروری ہے۔