Skip to main content

Darussalam Education System

EN / UR
m

از قلم: صداقت اکرام

جب میں نمازِ مغرب کے لیے مسجد پہنچا تو مسجد کے داخلی دروازے پر ایک کیمپ لگا نظر آیا۔۔ محبت و اخوت کے عملے نمونے، کیمپ، اسلامی بھائی چارے کو عملی جامہ پہنانے اور دینی خیرخواہی کے اظہار کے لیے متاثرین سیلاب کی مالی امداد کا کیمپ۔۔۔
ذرا آگے بڑھا تو مسجد کے صحن میں ایک طرف مختلف کارٹن پیک تھے جن میں شاید راشن یا دیگر ضروری سامان تھا جو متاثرین تک پہنچایا جانا تھا۔۔۔

میں سوچنے لگا کہ یہ مدرسے والے بھی کس مٹے کے بنے ہوئے ہیں۔۔؟!

لوگوں کی تنقید بھی سنتے ہیں، طرح طرح کے طعنے سہتے ہیں، مختلف الزامات کا سامنا کرتے ہیں، اہلِ معاشرہ انھیں اچھی نظروں سے بھی نہیں دیکھتے مگر جونہی مسلمانوں پر کوئی کڑا وقت آتا ہے، کسی مصیبت کے بادل امڈتے ہیں، کسی آفت کے سائے پھیلتے ہیں تو یہ تڑپ اٹھتے ہیں، بے قرار ہو جاتے ہیں، سکون ان کی جسموں سے کوسوں دور ہو جاتا ہے اور یہ دوڑ پڑتے ہیں اپنے بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے۔۔۔
کوئی سیلاب میں ڈوب رہا ہو تو یہ اسے بچانے کے لیے پانی کی بے رحم موجوں میں اتر جاتے ہیں۔۔۔
کوئی ملبے تلے دب گیا ہو تو یہ اپنی ساری توانائیاں خرچ کر کے اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
کوئی پیاس سے بلک رہا ہو تو اسے پانی مہیا کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔۔۔
کوئی بھوک سے مر رہا ہو تو اس کی بھوک مٹانے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں۔۔۔
کوئی بے در و بے گھر ہو گیا ہو تو اسے چھت فراہم کرنے کے لیے انتھک جدوجہد میں لگ جاتے ہیں۔۔۔
کسی کے بچے یتیم ہو گئے ہوں تو ان بچوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھتے ہیں۔۔۔
کسی بہن سے بھائی کا سہارا چھن گیا ہو تو اسے بھائی بن کر دکھاتے ہیں۔۔۔
کسی ماں کی گود ویران ہو گئی ہو تو اس کے لیے فرمانبردار بیٹا بن جاتے ہیں۔۔۔
عید کی خوشیاں ہوں، یہ غریبوں کو عید کا گفٹ پہنچاتے ہیں۔۔۔
رمضان کے ایام ہوں، یہ ضرورت مندوں کے لیے سحری و افطاری کا انتظام کرتے ہیں۔۔۔
وباء کے ڈیرے ہوں، یہ مریضوں کے لیے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرتے ہیں۔۔۔

یہ کسی طعنے کو، کسی تنقید کو، کسی الزام کو خاطر میں نہیں لاتے اور امت کے درد کو اپنا درد، امت کے غم کو اپنا غم بنا لیتے ہیں۔۔۔
لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں کہ بونیر میں ہمارے مسلمان بھائی زندگی و موت کی کشمکش میں ہیں، ان کے لیے کچھ راشن دے دو۔۔۔
لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ گلگت میں ہمارے دینی بھائی بھوک پیاس سے نڈھال ہیں، ان کے لیے کچھ ضروری اشیاء دے دو۔۔۔
لوگوں کو عرضیاں ڈالتے ہیں کہ تھر پارکر میں ہمارے بھائی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، ان کے لیے پینے کے صاف پانی کا بند و بست کرنا ہے، کچھ تعاون کر دو۔۔
اپنے نفس کو مار کر، اپنی انا کو قربان کر کے، اپنے وقت کو وقف کر کے یہ مدرسے والے امت کی درد رسی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔۔۔
تو پھر میں سوچتا ہوں کہ یہ لوگ واقعی ہی ایسے مٹی سے بنے ہیں جس میں برداشت بھی ہے،
جس میں خیر خواہی بھی ہے،
جس میں امت کے لیے تڑپ بھی ہے،
جس میں مظلوموں کے لیے ہمدردی بھی ہے،
جس میں دین کے لیے غیرت بھی ہے،
جس میں اسلام کے لیے حمیت بھی ہے، جس میں وطن کے لیے محبت بھی ہے۔۔۔۔
سلام ہے ان مدرسوں والوں کو۔۔۔ خراج تحسین ہے ان اسلامی اقدار کے وارثوں کو۔۔۔ ڈھیروں دعاؤں کے نذرانے ہیں اللہ کی نظر میں ان کائنات کے بہترین افراد کے لیے۔۔۔